Proud to be a Muslim!

(Hadeeth) Qyamat ki nishanian - قیامت کی نشانیاں

No comments
Sahih Al-Bukhari Book


صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2784



ابوبکر بن ابی شیبہ علی بن حجر ابن علیہ، ابن حجراسماعیل بن ابراہیم، ایوب حمید بن ہلال ابوقتادہ، عدوی یسیر بن جابر سے روایت ہے کہ ایک دفعہ کوفہ میں سرخ آندھی آئی ایک آدمی آیا جس کا تکیہ کلام یہ تھا اے عبد اللہ بن مسعود آگئی تو وہ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے حالانکہ ٹیک لگائے ہوئے تھے اور کہا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ترکہ تقسیم نہ کیا جائے اور غنیمت سے خوشی نہ ہوگی پھر اپنے ہاتھ سے ملک شام کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ اس طرف دشمن اہل اسلام سے لڑنے کے جمع ہوں گے اور اہل اسلام ان سے لڑنے کے لئے جمع ہو جائیں گے میں نے کہا آپکی مراد رومی ہیں انہوں نے کہا ہاں اور اس وقت سخت شدت کی جنگ ہوگی اور مسلمان موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پھر وہ خوب جہاد کریں گے یہاں تک کہ ان کے درمیان رات کا پردہ حائل ہو جائے گا پھر یہ بھی لوٹ آئیں گے اور وہ بھی واپس آجائیں گے اور کوئی ایک گروہ غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ بالکل ہلاک اور فنا ہو جائے گا پھر مسلمان ایک اور لشکر آگے بھیجیں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ کے بغیر واپس نہ آئیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہو جائے پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے اور کوئی غالب نہ ہوگا اور جو لشکر لڑائی کے لئے آگے بڑھا تھا وہ ہلاک اور فنا ہو جائے گا پھر مسلمان ایک اور لشکر روانہ کریں گے جو موت پر شرط لگائیں گے کہ وہ غلبہ حاصل کئے بغیر واپس نہ لوٹیں گے پس وہ بھی جنگ کریں گے یہاں تک کہ شام ہو جائے گی پھر یہ بھی واپس آجائیں گے اور وہ بھی لوٹ جائیں گے لیکن کوئی بھی غالب نہ ہوگا اور وہ لشکر ہلاک وفنا ہو جائے گا پس جب چوتھا دن ہوگا تو باقی اہل اسلام ان پر حملہ کردیں گے تو اللہ کافروں پر شکست مسلط کر دے گا اور ایسی لڑائی ہوگی کہ ویسی کوئی نہ دیکھے گا یا کہا کہ ویسی کسی نے دیکھی نہ ہوگی یہاں تک کہ پرندے بھی ان کے پہلوؤں کے پاس سے گزریں گے تو وہ بھی آگے نہ بڑھ سکیں گے یہاں تک کہ مردہ ہو کر گر پڑیں گے اور ایک باپ کی اولاد کو شمار کیا جائے گا تو وہ سو ہوں گے اور ان میں سے سوائے ایک کے کوئی بھی باقی نہ رہے گا پس اس حال میں کس غنیمت پر خوشی ہوگی یا کون سی میراث کو تقسیم کیا جائے گا پھر اسی دوران مسلمان ایک اور بڑی آفت کی خبر سنیں گے جو اس سے بھی بڑی ہوگی پس ان کے پاس ایک چیخنے والا آئے گا کہ دجال ان کے بعد ان کے بال بچوں میں آگیا ہے یہ سنتے ہی اپنے ہاتھوں میں موجود چیزوں کو پھینک دیں گے اور اس کی طرف متوجہ ہوں جائیں گے پھر دس سواروں کا ہراول دستہ روانہ کریں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ان کے نام اور آباؤ اجداد کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگوں کو پہچانتا ہوں اور وہ اس دن اہل زمین سے بہترین شہسوار ہوں گے یا اس دن وہ زمین والوں میں سے بہترین شہسوار ہوں گے ابن ابی شیبہ نے اپنی روایت میں اسیر بن جابر سے روایت کی ہے۔

No comments :

Post a Comment

Hateful and abusive comments are not tolerated in this site. Time is not to be Wasted in answering insults. Your IP and email address will be blocked.